آزاد امیدوار برائے قانون ساز اسمبلی
میں ڈاکٹر اسد شفیق ولد محمد شفیق، خادم مشہ بروم، آپ سے مخاطب ہوں؛
میں بحیثیت امیدوار حلقہ نمبر ۳، ضلع گانچھے سے گلگت بلتستان اسمبلی کے ممبر کے لیے عام انتخابات میں حصہ لے رہا ہوں۔ میں عوام کے خادم، غریبوں کے حامی اور مشہ بروم کی عوام کے حقیقی ترجمان اور اپنے مرحوم والد محترم محمد شفیق کے خواب کی تکمیل کے لیے، اپنے حلقے کی عوام کی بھرپور حمایت سے میدان میں اترا ہوں۔ ہمارا انتخابی منشور وہ عملی راستہ اور لائحہ عمل ہے جو حلقہ نمبر ۳ کو جدید خطوط اور عصری تقاضوں کے مطابق ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا۔ یہی خادم عوام محمد شفیق مرحوم کا خواب اور دراصل یہاں کے ہر باشعور مرد وزن کا خواب ہے۔ ہمارا انتخابی منشور حلقہ نمبر ۳ کے علما، عمائدین، دانشوروں، خواتین، نوجوانوں اور ہمارے پرعزم کارکنوں کی مشاورت سے مرتب کیا گیا ہے۔ اس پر میں ان سب کی گراں قدر خدمات، مشاورت اور رہنمائی پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔
سب سے پہلے میں اپنے حلقے کے ہر مرد وزن کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ سب نے ہر بار میرے والد محترم اور خادم عوام محمد شفیق کا ساتھ دیا۔ آپ سب کے تعاون، باہمی اتفاق اور جہد مسلسل کا صلہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں گلگت بلتستان کے انتخابات 2015 میں بڑی کامیابی کی صورت میں عطا کیا اور آپ نے گلگت بلتستان حکومت میں وزارت خوراک کا قلمدان سنبھالا۔ اس اہم منصب پر فائز ہوتے ہوئے جہاں آپ نے اپنے حلقے میں بلاتفریق عوامی خدمت کی اور ریکارڈ ترقیاتی کام کیے وہاں آپ نے حلقے سے انتقام اور نفرت کی سیاست کا خاتمہ کیا۔ آپ نے اپنے حلقے میں Meritocracy یعنی اہلیت اور شفافیت کو اپنی اصلی حالت میں بحال کیا۔ آپ نے اپنے دور اقتدار میں کسی کے ساتھ بھی ظلم ہونے نہیں دیا اور حقدار تک اس کا حق پہنچانے میں پیش پیش رہے۔ انصاف کی بالادستی، غریب پروری اور عوامی مفاد کی ترجیح مجھے انہی سے ورثے میں ملی ہیں۔
یہ انہی کی بہترین تربیت اور رہنمائی کا اثر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہمیشہ اپنے فضل و کرم سے نوازا اور بڑی کامیابیاں عطا کیں۔ پہلے مجھے ڈاکٹر بن کر انسانیت کی خدمت کا نادر موقع فراہم ہوا۔ اس کے بعد میں نے CSS میں بھی کامیابی حاصل کی جو کہ پاکستان بھر میں اعلیٰ ترین مگر سب سے مشکل اور سخت مقابلے کا امتحان ہوتا ہے۔ پھر میں نے سول سروس جوائن کرکے عوام کی خدمت کی۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں اور اپنے والدین پر فخر محسوس کرتا ہوں کہ میں نے اپنی سروس کے دوران بھی انسانیت کی خدمت کو عبادت سمجھ کر انجام دیا۔
زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ میرے والد کے ساتھ ان کی زندگی نے وفا نہ کی۔ ان کی رحلت کے بعد لوگوں نے جس شدت کے ساتھ ان کی کمی محسوس کی اور آپ کے ایصال ثواب کے لیے گاؤں گاؤں مجالس ترحیم اور قرآن خوانی کی گئی، اس عوامی جذبے نے میرادل موم کر دیا اور میری آنکھیں روشن کیں۔ عوام کی ان سے والہانہ محبت اور لگاؤ کو تب میں نے اس سے بھی بڑھ کر محسوس کیا جب میں نے عوام کا شکریہ ادا کرنے کے لیے گاؤں گاؤں دورہ کیا۔ جب میں نے زندگی کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والوں بالخصوص حلقے کے غریب عوام کے دلوں میں ان کے لیے بے پناہ محبت دیکھی، تب میں نے عزم کیا کہ میں عوام کے حقیقی خادم اور اپنے والد محترم کے مشن کو آگے بڑھاؤں اور عملی سیاست میں شامل ہو جاؤں۔ میں اپنے والد کی روح سے اور اللہ تعالیٰ کی پاک ذات سے یہ وعدہ کیا کہ میں صدق دل سے عوام کی خدمت کروں گا اور سیاست کو عبادت سمجھ کر آگے بڑھوں گا۔
میں آپ پر یہ بات واضح کرتا ہوں کہ میں سیاست میں صرف اور صرف حلقے کی تعمیر و ترقی، عوامی بہبود اور گلگت بلتستان کی خدمت کا جذبہ لے کر آیا ہوں۔ میرے ناقدین کہتے ہیں کہ ایک سی ایس پی آفیسر تو سیاست میں آئے بغیر بھی عوام کی خدمت کر سکتا تھا۔ میں ان پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ سیاست میں آئے بغیر میں براہ راست اپنی عوام کی خدمت نہیں کر سکتا تھا، ہر شعبے میں اور بڑے پیمانے پر عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کر سکتا تھا۔ میں ان کے قریب رہ کر، ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھنا چاہتا ہوں اور ان کو ان کے خوابوں کی منزل تک لے کر جانا چاہتا ہوں۔ جو ان کا انسانی، شرعی اور قانونی حق ہے۔
میں عوامی تعاون اور عمائدین علاقہ کی مشاورت سے حلقہ نمبر ۳ کو ماڈل حلقہ بنانا چاہتا ہوں تاکہ دوسرے حلقوں کے نمائندے بھی ہم سے سیکھ سکیں۔
میں آپ کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ آپ کا ووٹ رائیگاں نہیں جانے دوں گا اور ان شاء اللہ آپ ہمیشہ فخر محسوس کریں گے کہ آپ نے مجھ پر اعتماد کرکے درست اور اچھا فیصلہ کیا تھا۔
آپ کے ووٹ کی قیمت کپڑے، کارپٹ اور تھوڑے سے پیسوں میں نہیں، بلکہ اس کی قیمت آپ اور آپ کی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل میں مضمر ہے۔
میں آپ کے سامنے ہمارا انتخابی منشور رکھنا چاہتا ہوں تاکہ آپ اپنے ضمیر کا سودا نہیں بلکہ درست فیصلہ کر سکیں؛ یہ وہ لائحہ عمل ہے جس پر ان شاء اللہ حلقہ نمبر ۳ کی تعمیر و ترقی کی بنیادیں کھڑی ہوں گی۔ میں اپنے تجربہ کار بزرگوں، ماؤں، بہنوں، باشعور کارکنوں اور پڑھے لکھے نوجوانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اسے مزید موثر اور نتیجہ خیز بنانے میں ہمیں اپنی قیمتی آراء سے نوازیں، میں آپ سب کا مشکور رہوں گا۔
ہمارے منشور کا بنیادی نکتہ انصاف کی بالادستی ہے۔ ہم قانون کو ہر ایک کے لیے یکساں اور قابل رسائی بنائیں گے۔ سول ایڈمنسٹریشن اور تھانہ کچہری کی روایت تبدیل کرکے انہیں طاقت ور کے تابع ہونے کی بجائے آئین اور قانون کا تابع بنا کر کمزوروں، غریبوں اور مظلوموں کا حامی اور محافظ بنایا جائے گا۔ انہیں قانون کے مطابق اور انصاف پر مبنی فیصلے کرنے کے پابند بنائے جائیں گے اور قانون کو ہر سطح پر ہر ایک کے لیے قابل رسائی بنایا جائے گا۔
سرکاری و غیر سرکاری اداروں سے سفارش، اقربا پروری، رشوت ستانی اور دیگر تعصبات پر مبنی کلچر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے اور ان اداروں کی خدمات، سہولیات اور ان سے حاصل ہونے والے مفاد کو محض حقدار، اہل اور موزوں افراد تک پہنچانا یقینی بنایا جائے گا۔ لوٹ کھسوٹ اور دھونس دھڑلے سے حقداروں کا حق مارنے سے روکا جائے گا اور کسی کی حق تلفی نہیں ہونے دیں گے۔ نیز کمزوروں اور ناداروں کو حقوق کے حصول میں خصوصی قانونی اور مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
اپنے حلقے میں معیاری تعلیم کا فروغ اور ہر طبقے کو تعلیم تک رسائی بہتر بنانا ہماری اولین ترجیح ہوگی۔ ماضی میں تعلیم کا بجٹ غیر معیاری اور ناقص تعمیرات کی نذر کیا گیا۔ پی سی فور پر جان بوجھ کر توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے اساتذہ کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ حلقہ نمبر ۳ کے طلبہ بلتستان بھر کے ذہین اور تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ہونے کے باوجود بھی معیاری تعلیم سے محروم رہے ہیں۔ ہمارے سیاسی مخالفین کی غلط پالیسیوں اور عدم توجہی کے باعث ہماری طالبات آج بھی شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ تعلیم و تدریس آج دنیا میں شبانہ روز جدت کے نئے معیار متعین کر رہی ہیں مگر افسوس ہمارے ہاں روایتی تعلیم کے تقاضے بھی پورے نہیں کئے گئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں جہاں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کی دھوم ہے ہمارے ذہین و فطین بچوں کو معیاری تعلیم سے محروم رکھنا انہیں نادانستہ غلامی کا شکار کرنے سے کم کا جرم نہیں ہے۔ ہم ان شاء اللہ، تعلیم پر خصوصی توجہ دیں گے۔ جدید تعلیمی تقاضوں اور عالمی معیار کے مطابق تعلیم کے شعبے میں اصلاحات لائیں گے۔ بچیوں کی تعلیم ہماری خصوصی ترجیح ہوگی اور Early Childhood Development پر خصوصی فوکس کیا جائے گا۔ تعلیمی اداروں میں سبجیکٹ سپیشلسٹ اساتذہ کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔ موزونیت کے حساب سے مختلف علاقوں میں سکولوں کو اپ گریڈ بھی کیا جائے گا۔ خصوصا خورکونڈو میں ایک ماڈل ہائی سکول، کرمڈینگ، چھوغو گرونگ، کندوس اور لچھت کے درمیان ایک ماڈل ہائیر سکینڈری سکول قائم کیا جائے گا۔ سلترو گونگمہ، غاغولو اور سیت کو ملا کر ماڈل ہائی سکول۔ دم سم گلشن کبیر اور سینو کو ملا کر ڈویژنل پبلک سکول کو ہائیر سکینڈری تک اپ گریڈ۔ ہلدی ہائی سکول کو اپ گریڈ، تھگس اور ہلدی کو ملا کر ماڈل ہائیر سکینڈری سکول۔ رمدے یونیورسٹی کے لیے بسوں کا انتظام اور اسکالرشپ۔ غورسے، رئیشا، لونکھا، ابدان کے درمیان ہائیر سکینڈری سکول۔ سرموں اور یوچونگ کے درمیان ہائیر سکینڈری سکول۔ ہوشے اور تلس میں مڈل سکول کو ہائی سکول کا درجہ۔ مچلو میں ہائیر سکینڈری سکول۔ دانش سکول کے لیے بسیں اور اسکالرشپ۔ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں طلبہ کے لیے اسکالرشپ بجٹ۔ بیرون ملک تعلیمی داخلے اور انٹرنیشنل اسکالرشپ کے لیے کوشش۔ سی ایس ایس اور ایف پی ایس سی کے لیے 20 اسکالرشپس۔ بزنس سٹارٹ اپس کے لیے گرانٹس۔ ٹیکنیکل کالج کا قیام۔ ای لرننگ کے ذریعے زبانیں سیکھنے کا بندوبست۔ مقامی زبان و ادب کے تحفظ کے لیے سکولوں میں خصوصی پروگرام۔
بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی اور انتظامی ڈھانچے میں بہتری اور صفائی کا فروغ ہمارے منشور کا اہم حصہ ہیں۔ یہ حصہ میرے لیے اس لحاظ سے بھی خصوصی توجہ اور ترجیح کا حامل ہے کیونکہ میں نے بحیثیت ڈاکٹر پاکستان کے مختلف علاقوں کے ہسپتالوں میں کام کیا ہے اور صحت عامہ، منصوبہ بندی اور خدمات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ انتظام و انصرام کا وسیع عملی تجربہ بھی رکھتا ہوں۔ اس لحاظ سے ہمارے حلقے میں صحت کے شعبے کا حالت زار دیکھ کر مجھے انتہائی دکھ ہوتا ہے۔ میرے خیال میں پورے مشہ بروم سب ڈویژن کی عوام کی دیکھ بھال کے لیے ایک مستند ڈاکٹر کا دستیاب نہ ہونا یہاں کے ووٹرز کے ساتھ کھلی دشمنی ہے۔ ہم ان شاء اللہ، خورکونڈو میں ماڈل ڈسپینسری، کرماڈنگ، کندوس، چھوغو گرونگ، لہ چھت کے درمیان دس بستروں کا ہسپتال، گونما، سلترو، غاغلو اور سیت کے درمیان دس بستروں کا ہسپتال، لونکھا، ابدان، یوچنگ، سرمو، رائشہ غورسے کو ملا کر دس بستروں کا ہسپتال، ہوشے ویلی میں دس بستروں کا ہسپتال قائم کریں گے۔ پہلے سے قائم ڈسپینسریوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ تمام مراکز صحت کے پی سی فور منظور کروائیں گے۔ ماں اور بچے کی صحت کے مراکز، ایل ایچ ویز کی تعیناتی، لیڈی ہیلتھ ورکرز، جے ایم ٹی کی تربیت۔ ریجنل ہسپتال سکردو اور ڈسٹرکٹ ہسپتال خپلو میں معاونت۔ تمام اہم مراکز پر ایمبولینس۔ ماڈل ڈسپینسریز کو لیبارٹری سروسز اور ای ڈائیگنوسٹک سروس کے لیے معیاری ہسپتالوں سے منسلک کیا جائے گا۔ نادار مریضوں کے لیے مالی تعاون۔ سکردو چارسو بیڈ ہسپتال کے مضافات میں چالیس کمروں کا مفت مسافرخانہ۔
پانی زندگی کی بنیاد ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا ہے ۔ صاف پانی انسان کابنیادی حق بھی ہے اور بہتر صحت کا ضامن بھی۔ آلودہ پانی ایک خاموش قاتل ہے اورانسانی زندگی کے لئے تباہ کن خطرہ ہے۔ ہمارے حلقے کو اللہ تعالیٰ نے پانی کے صاف و شفاف قدرتی وسائل سے نوازا ہے مگر ماضی میں ان ذرائعوں کو بہتر طریقے سے استعمال میں لانے کی جانب توجہ نہیں دی گئی۔ ہماری ٹیم نے پورے حلقے میں گاوں گاوں جاکر تفصیلی دورہ کیا اور ہم نے اس ضرورت کو شدت کے ساتھ محسوس کیا کہ صاف پانی کی محفوظ اورمناسب مقدار میں فراہمی پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس ضمن میں دستیاب اور زیر استعمال پانی کے وسائل اور ذخائر کے معیار کالیبارٹری ٹیسٹ کیا جائے گا جبکہ نئے محفوظ اور بہتر وسائل پیدا کرکے گاوں گاوں صاف پانی کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی۔ بوسیدہ ٹینکیوں کی مرمت، پانی کی سپلائی لائنوں کی مرمت اور اضافے کے لئے ٹھوس اقدامات بھی اٹھائے جائیں گے۔
پانی بجلی کی پیداوار کا سستا ترین ذریعہ ہے۔ ہمارے حلقے میں ہر وادی میں ایسےبیشمار مواقع موجود ہیں جہاں ندی نالوں پر بجلی گھر تعمیر کر کے نہ صرف ہمارے حلقے میں بجلی کی اچھی خاصی پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ اسے ضلعی اور ریجنل گرڈ میں شامل کرکے دیگر علاقوں کی محرومی کو بھی دور کرکے نوجوانوں کے لئے ملازمت کے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔ آج کل کے ترقی یافتہ دور میں بجلی سے محرومی بیک وقت تعلیم سے محرومی، حالات حاضرہ اور ذرائع ابلاغ سے محرومی، اچھی صحت سے محرومی اور تمام اداروں کی غیر فعالیت کا سبب بنتی ہے۔ بجلی کی عدم دستیابی چھوٹے کاروباری افراد، ہنرمندوں اور طالب علموں کے لئے کسی ناگہانی آفت سے کم نہیں ہے۔ بلتستان بھر میں ہمارا حلقہ وہ واحد منفرد اور خوش قسمت حلقہ ہے جہاں تین اہم دریا بہتے ہیں۔ دریائے شیوک، دریائے سیاچن اور دریائے ہوشے یہاں کے لوگوں کی بقا اورمعیشت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وادی ہوشے میں کئی موزوں اور محفوظ جگہے موجود ہیں جہاں منی ڈیمز بناکر بجلی پیدا کی جاسکتی ہے ۔ کاندے ، بلے گوند ،مرضی گون ،کندوس ،دمسم اور سلترو میں موجود بجلی گھروں کو آپ گریڈ کر یں گے۔دوسری جانب دریائے سیاچن اور شیوک پر بھی ایسے مواقع ہماری نظر میں ہیں جہاں ڈائیورژن ، منی ڈیمز اور رن آف دی ریور جیسے پاور پروجیکٹس کے مواقع موجود ہیں۔ اس سے روزگار میں اضافہ، معیشت میں بہتری اور ملازمت کے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ سیاحت کے بڑے مواقع پیدا ہوں گے۔
موسمیاتی تبدیلی عصر حاضر میں عالمی سطح پر ایک بہت ہی اہم چیلنچ ہے۔ اس سے نبرد آزما ہونے کے لئے عالمی اور قومی سطح کی کاوشوں کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں اس اہم مسئلے کی طرف نہ صرف عدم توجہی برتی گئی بلکہ ہمارے سیاسی مخالفین نے سنگین غفلت کا ارتکاب کیا۔ کندوس اور ہلدی میں سیلاب کی تباہ کاریاں، ہوشے ویلی میں طغیانی اور سرموں ،یوچنگ ،رائشہ ،غورسے ،بلے گوند ،مرضی گون ،تلس اور مچلوکے علاقوں میں تباہی موسمیاتی تبدیلی کے نمائیاں اثرات ہیں۔ ہمارا حلقہ گلیشئرز کا سب سے بڑا مسکن ہے اور یہ خطرات ابھی ختم نہیں ہوئے۔ انشااللہ ان مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لئے ہر بین الاقوامی اور قومی سطح کے متعلقہ فورمز پر آواز اٹھائیں گے اور صوبائی بجٹ کے علاوہ کلائمیٹ چینج کے بین الاقوامی اور قومی سطح کے فنڈز اور مالی معاونت کرنے والے سرکاری و نجی اداروں سے رابطے بڑھا کر خاطر خواہ اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ شجر کاری کو فروغ دیں گے اور بنجر اورقابل کاشت اراضی کو تصرف میں لانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ منی ڈیمز ، چیک ڈیمز اور رن آف دی ریور پاور پروجیکٹس سے لانگ ٹرم منصوبہ بندی کے ذریعے سے یہاں کی زرخیز اور قیمتی زمینوں کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے نیز ہوشے ویلی میں مرضی گوند ، بلے گوند،تلس،مچلو اور مشہ بروم ویلی میں کندوس، ہلدی ، تھگس ، گلشن کبیراور دوسری طرف سرموں، یوچنگ رائشہ غورسےاور مضافات میں ہرسال دریائی کٹاو اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث ہونے والےنقصانات کا مستقل تدارک کیا جاسکتا ہے۔ مزید برآں مخدوش علاقوں اور آبادی کو بچانے کے لئے دریاوں پر حفاظتی بند بھی تعمیر کئے جائیں گے۔
اعلیٰ اور معیاری مواصلاتی نظام ، سڑکیں اور پل معاشی ترقی اور سہولیات تک فوری رسائی کے لئے سب سے اہم ذرائع ہیں۔ اس سلسلے میں میں اپنے والد محترم کے وژن کو آگے بڑھاوں گا۔ حلقہ نمبر ۳ ضلع گنگ چھے کو بلتستان بھر میں دفاعی لحاظ سے جو اہم مقام حاصل ہے وہ پورے گلگت بلتستان میں کسی اور علاقے کو حاصل نہیں۔ یہاں کی عوام کی معاشی ترقی، انفراسٹرکچر بالخصوص ذرائع مواصلات کی بہتری دفاعی اعتبار سے بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ ماضی میں اس اہمیت کو سمجھنے میں بھی سنگین کوتاہی کی گئی۔ مچلو اور ہلدی کے درمیان شفیق پل کی تعمیر میرے والد محترم کے اسی وژن کا حصہ تھا ۔ آج ایک متبادل، تیز ترین اور باسہولت راستے کے طور پر اس کی دفاعی اور سیاحتی اہمیت کا بچہ بچہ قائل ہے۔ مجھے حالیہ دورے کے دوران معلوم ہوا کہ بہت سے علاقوں میں لنک روڈ کی تعمیر پر ماضی میں توجہ نہیں دی گئی۔ دفاعی طور پر انتہائی اہم اور ناگزیر علاقہ ہونے کے باجود بھی یہاں پر سڑکوں کی پختگی نہیں کی گئی۔ جابجاخستہ حال سڑکیں عوام کا منہ چڑا رہی ہیں۔مچلو سیاچن روڈ، مچلو ٹو ہوشے روڈ، غورسے ہلدی روڈ اور یوچنگ غورسے روڈ کی خستہ خالی عوام کے سامنے ہیں ۔ پچھلے ادوار میں آر سی سی بریج کی تعمیر پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ بلکہ زیر تعمیر پلوں کو بھی حالیہ دور اقتدار میں سیاسی عدوات کی بنیاد پر منسوخ اور نامکمل رکھے گئے ۔ مگر ہم عوام کو مایوس نہیں کریں گے ۔انشااللہ افواج پاکستان کے تعاون سے شاہراہ سیاچن ، یوچنگ غورسے روڈ ،غورسے تھگس روڈ ،مچلو سیاچن روڈ ،مچلو ٹو ہوشے روڈ کو نیشنل ہائی وے کے زیر اتنظام لاکر اس کی توسیع ، مرمت اور محفوظ بنانے کے لئے خاطر خواہ اقدامات کئے جائیں گے۔ انشاللہ سکردو ٹو گنگچھے روڈ کو بھی دوسرے حلوقوں کے نمائندوں سے مل کر نیشنل ہائی وے اتھرٹی کے زیر انتضام لا کر توسیع ، مرمت اور محفوظ بنانے کے لئے خاطر خواہ اقدامات کئے جائیں گے ۔سڑکوں کی بہتری انشااللہ ہماری ترجیح رہے گی۔
تاریخ بلتستان گواہ ہے کہ ماضی میں وادی مشہ بروم خوراک و زراعت میں خود کفیل علاقہ رہا ہے۔ یہاں جنگلی حیات اور زراعت عروج پر تھی۔ یہاں پر ہر وادی میں مختلف زرعی اجناس اگائی جاسکتی ہیں اور پھلوں کی اچھی پیداوار بھی حاصل ہوسکتی ہے۔ ہماری عوام بہت محنتی جفاکش اور غیرت مند ہیں ۔ انشااللہ ہم روایتی زرعی نظام میں جدت کے خواہاں ہیں اور اس سلسلے میں زرعی پیداوارمیں اضافے، جدید طریقوں پر پروسیسنگ ، قومی اور بین الاقوامی سطح پر مارکیٹنگ کے مواقع پیدا کریں گے۔ نئے باغات، اچھے بیجوں کی فراہمی اور غیر آباد زمینوں کی آباد کاری پر بھی توجہ دیں گے۔ واٹر چینلز کی مرمت اور توسیع اورنئے چینلز کی تعمیر پر خاص توجہ دی جائے گی۔ حالیہ سیلاب اور قدرتی آفات سے تباہ ہونے والی زرعی اراضی کی بحالی ، انفراسٹرکچر کی تعمیر و مرمت اورکندوس، ہلدی، بلے گوند مرضی گوند، سرموں ، یوچنگ ، غورسے اور دیگر تمام متاثر ہ علاقوں کے گھرانوں کی بحالی اورامداد کے لئے خصوصی فنڈز مختص کئے جائیں گے۔ حکومت گلگت بلتستان اور دیگر این جی اوز کے اشتراک سے جاری زرعی ترقیاتی سکیموں کی بہتر سرپرستی اور رہنمائی کریں گے۔ کسی بھی ناخوشگوار واقع سے نمٹنے کے لئے ریسکیو اور محکمہ صحت کے مراکز کو حلقے میں فعال بنائیں گے۔ ہمارے حلقے میں زرعی ماہرین سے مل کر ون ویلی ون پراڈکٹ کا جدید ماڈل متعارف کرائیں گے۔ گلہ بانی، ڈیری فارمنگ ، یاک فارمنگ کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے کنزرویشن کمیٹیوں کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے گا۔ زراعت اور زرعی کاروبار، ڈیری فارمنگ ، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ (ویلیو چین) کے لئے آسان شرائط پر قرضے فراہم کئے جائیں گے۔
گلگت بلتستان قومی اور بین الاقوامی سیاحت کا مرکز بن چکاہے۔ سیاحت نے بڑی تیزی کے ساتھ علاقائی معیشت میں بہت اہم مقام حاصل کیا ہے۔ یہاں کے لوگ سیاحت کے کئی پہلوں سے جڑ کر خطیر زرمبادلہ کما رہے ہیں۔ تاریخی طور پر ایڈوانچر ٹورازم کے لئے عالمی سطح پر معروف ہونے کے باوجود حلقہ نمبر ۳ بالخصوص وادی ہوشے سیاچن اور کندوس میں ایڈوانچر ٹورازم پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور اسے روایتی نظام کے رحم و کرم چھوڑ دیا گیا۔ جس کی وجہ سے بہت سے ایڈوانچر ٹورازم کے مواقع مسدود ہوگئے۔ دوسری جانب مقامی تہذیب و ثقافت میں اپنا منفرد مقام رکھنے کے باوجود بھی یہ علاقہ تاریخی ، ثقافتی اور تہذیبی ورثوں کے دلدادہ سیاحوں کو اپنی جانب راغب نہیں کر سکا۔ مچلو خانقاہ، تھگس خانقاہ، دم سم خانقاہ، آستانہ میر عارف ، خانقاہ معلی سرموں اور ہر گاوں میں موجود تاریخی عمارتیں وہ قدیم ورثے ہیں جن کی تشہیر نہ ہونے کی وجہ سے سیاحت کا یہ پہلو یکسر عوام کی نظروں سے اوجھل ہے۔ نیز ہلدی ، تھگس ، غورسے ، سینو ، گلشن کبیر، کندوس سلترو اور دیگر وادیوں میں موجود قدیم سنگی نقوش اور آثار قدیمہ پر کوئی تحقیقی وتشہیری کام نہ ہوسکا۔ یہاں تصوف وعرفاں اور علم و ادب کے نامی گرامی لوگ گزرے ہیں۔ انشااللہ مچلو لا ویو پوئنٹ جہاں سے نانگہ پربت و کے ٹو وغیرہ نظر آتے ہیں وہاں تک روڈ کی تعمیر اور حقیقی معنوں میں تشہیر پورے مشہ بروم کے لیے دنیا بھر سے سیاح کو آٹریکٹ کریں گے۔ انشااللہ اس ضمن میں دستیاب آثار پر مستند اور موثر تحقیقی کام کے لئے مقامی نوجوانوں، علاقائی تعلیمی اداروں ، یونیورسٹیز اور کالجوں کے نوجوانوں کو خصوصی سکالر شپ فراہم کئے جائیں گے اور بین الاقوامی سطح پر ان کی تصنیف و نشر و اشاعت کا اہتمام کیا جائے گا۔
دنیا کی تیز ترین ترقی کے پیچھے IT اور ٹیلی کمیونیکیشن میں روز افزوں ترقی ہے۔ ہم اپنے نوجوانوں کو عالمی معیار کے مواقع فراہم کریں گے۔
ہمارے ماضی کی سیاسی روایات کے لحاظ سے عوامی نمائندے الیکشن جیتنے کے بعد عوام کو بھول جاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ معاشرے میں ہر سطح پر خود احتسابی اور جوابدہی کے عمل کو یقینی بنائے بغیر ایک خود دار سول سوسائٹی کا قیام ممکن نہیں۔ ہم بحیثیت عوامی خادم اپنے آپ کو عوام کے سامنے ہر وقت جوابدہ سمجھتے ہیں۔ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے گاؤں کی سطح پر ہر گاؤں میں خصوصی کمیٹیاں قائم کریں گے نیز سرکاری معاملات سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے متعلقہ تحصیل آفسز اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر شکایات سیل قائم کریں گے۔
میرے حلقے کے میرے عزیز بزرگو، بھائیو اور بہنو ۔۔۔! ہمارے منشور کی وسعت اور اس میں موجود وسیع امور کی انجام دہی کے لیے وسائل خاص طور پر مالیاتی بجٹ سے متعلق آپ کے ذہنوں میں سوالات جنم لے رہے ہوں گے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر اتنے وسیع پیمانے پر ریفارم لانے اور ان بڑے بڑے منصوبہ جات کے لیے فنڈز کہاں سے آئیں گے۔ میرے بزرگو، بھائیو اور بہنو۔۔۔ ہم نے اپنے حلقے کی سطح پر تمام تجربہ کار، روشن خیال اور ترقی پسند افراد کے ساتھ مل کر ان تمام منصوبوں سے متعلق تمام تیاریاں مکمل کی ہوئی ہیں۔ ایک ایک منصوبے کی لاگت، اخراجات اور ضروریات کا مکمل بجٹ بنایا ہوا ہے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ گانچھے ضلع اور گلگت بلتستان کی سطح کے مسائل کے حل کے لیے بھی ہمارا جامع پلان موجود ہے۔
میرے عزیز بزرگو، بھائیو اور بہنو ۔۔۔ آپ کا ووٹ قوم کی امانت ہے اور اس کا درست استعمال آپ کا فرض ہے۔ حلقے کی تعمیر و ترقی کا خواب اور اس کا حصول آپ کے درست فیصلے پر منحصر ہے۔ ان شاء اللہ آپ کے ووٹ کی طاقت سے منتخب ہو کر ایوان اقتدار میں آپ کی بہترین ترجمانی کروں گا۔ مشہ بروم کی وادیاں محض پتھریلے اور سنگلاخ پہاڑوں کا علاقہ نہیں۔ اس علاقے کی جیو اسٹریٹجک اہمیت سے ہمیں آگاہ ہونے کی ضرورت ہے۔ قطبین کے بعد سب سے بڑے گلیشئیرز کے ذخائر اسی علاقے میں ہیں۔ نہ صرف وطن عزیز پاکستان بلکہ دنیا کے لیے صاف پانی کی فراہمی کے یہ عظیم ذخائر دنیا کی توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ گوندوغورو، براڈ پیک، مشہ بروم، کے ٹو، رگشہ بروم اور لیلی پیک جیسے مشہور اور اہم پہاڑ بھی یہاں موجود ہیں۔ گلوبل ایکو سسٹم میں اس کی اہمیت بے مثال ہے۔ دوسری جانب دنیا کی سب سے بلند محاذ جنگ بھی یہاں واقع ہے۔
ہم ہر قومی اور بین الاقوامی فورم پر اس خطے کی خصوصی شناخت اور اہمیت کو اجاگر کریں گے۔ اس کے علاوہ اپنے سالانہ ڈویلپمنٹ فنڈ اور محکمہ جاتی فنڈز (پی ایس ڈی پی) کو بھرپور اور موثر طریقے سے تصرف میں لاتے ہوئے ایک شاندار روایت قائم کریں گے۔
ان شاء اللہ العزیز، ہمیں اپنے کارکنوں، ماہر معاونین، خواتین و حضرات اور بالخصوص نوجوانوں پر یقین ہے کہ جس جوش و جذبے سے آپ سب نے اپنی ابتدائی سیاسی سرگرمیوں میں شرکت کی ہے، اب مزید ولولہ اور جوش سے آگے بڑھیں گے، ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر، کندھے سے کندھا ملا کر اتحاد اور اتفاق کے ساتھ آگے بڑھیں گے اور منزل کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ آج ہماری چند دنوں کی محنت، کل کے آرام اور راحت کی بنیاد بنے گی۔ ہمارا آج کا عقل مندانہ قدم ہمارے بہتر مستقبل کا ضامن ہوگا۔
میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ہمارے روشن مستقبل اور ہمارے درمیان فقط ایک سنجیدہ فیصلے کا فاصلہ ہے اور ہم اور ہمارے خوابوں کی تعبیر کے درمیان ہماری پرانی سوچ حائل ہے جسے آپ کے ووٹ کا صحیح استعمال دور کر سکتی ہے۔ لہذا، نہ صرف آپ ہمارا ساتھ دیں بلکہ اپنے عزیز و اقارب اور اپنے احباب کو بھی علاقے کی تعمیر و ترقی اور روشن مستقبل کی خاطر ہمارے کارواں کا حصہ بنائیں۔
خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو